​​آپ کا بچہ آپ کا اثاثہ ہے ،اس کا خیال رکھیں

ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی حادثہ گزرتا ہے تو ہم کچھ دن بہت محتاط رہتے ہیں۔ اسکے بارے میں خوب بحثیں کرتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔ اور کچھ عرصے بعد جب ویسا ہی حادثہ دوبارہ رونما ہوتا ہے تو پھر سے ہوش میں آجاتے ہیں۔

کل روزنامہ The news  کی ایک پرانی خبر نظر سے گزری۔ سال 2020 کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں روزانہ اوسطاً 8 بچے جنسی زیادتی اور ہراسگی کا شکار ہوتے ہیں۔ ہم لوگ کیوں اپنے بچوں کی حفاظت نہیں کر پاتے؟؟ ہم اپنے اردگرد جنسی بھیڑیوں کو کیوں پہچان نہیں پاتے؟؟؟ کیونکہ پیڈوفائل کے نام سے ہمارے ذہن میں جو خاکہ ابھرتا ہے وہ چہرے پر داغوں والے لمبے کوٹ میں ملبوس خوفناک نظر آنے والے آدمی یا کسی اور عجیب حلیے کا شخص جسے ہم دیکھتے ہی پہچان لیں گے کہ یہی جنسی درندہ ہے ۔مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ عام طور پر ، وہ آسانی سے اعتماد کے قابل اور بظاہر بے ضرر لوگوں کی شکل میں ہمارے آس پاس ہوتے ہیں۔ زیادہ تر معاملات میں ، قریبی رشتے دار ، ملازمین یا اساتذہ بچوں کے ساتھ جسمانی بدسلوکی اور جنسی زیادتی کے مرتکب پائے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین انہیں مکمل طور پر بے ضرر سمجھتے ہوئے ان پر آنکھیں بند کرکے بھروسہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ اندھا اعتماد آپ کے بچے کی زندگی تباہ کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ محترم والدین ، ​​بچہ آپ کا ہے! تو یہ مکمل طور پر آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اسے ایسے کسی بھی بدقسمت حادثے سے بچائیں۔

جنسی ہراسانی کے خطرات کو کم سے کم کرنے کے لئے کچھ احتیاطی تدابیر اس کالم کے ذریعے آپ کے ساتھ شئر کی جا رہی ہیں ۔ خدارا خود بھی ان پر عمل کریں اور اپنے اردگرد والوں کو بھی سمجھاتے رہیں۔

اپنے بچے کو بتائیں کہ اگر کوئی شخص ان کے نازک جسمانی اعضاء کو چھونے کی کوشش کرتا ہے تو فوری طور پر  بلند آواز میں کسی کو مدد کے لئے پکاریں اور زور زور سے رونا شروع کر دیں ۔ عزیز والدین اگر آپ کو ایسی بات اپنے بچے کو  بتانے میں شرم محسوس ہوتی ہے تو یاد رکھیں کوئی دوسرا ان کو عملی طور پر یہ سب بتائے گا اور یہ معصوم بچے کے لئے تباہ کن ہوگا۔

 عام طور پر مائیں اپنی بیٹیوں کا تو خیال رکھتی ہیں اور انہیں احتیاطی تدابیر بھی سمجھاتی ہیں لیکن بیٹوں کو یکسر نظرانداز کردیا جاتا ہے ۔ جبکہ چھوٹے لڑکوں کو بھی اسی طرح کی احتیاط اور تشویش کی ضرورت ہے کیونکہ زیادتی کا نشانہ وہ بھی بن سکتے ہیں ۔ اپنے بچے کو بڑی عمر کے کزنز ، دوستوں یا پڑوسیوں سے گھلنے ملنے کی ہرگز اجازت نہ دیں۔

 آجکل کا ماحول اور مصنوعی غذائی اجزاء بچوں کی قبل از وقت بلوغت کا سبب بن رہے ہیں ۔ لہذا اپنے بڑھتے ہوئے بچے کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھیں ۔یہ عمر 8 یا 9 سال بھی ہو سکتی ہے۔

 والدین کو بھی ، اپنے بچوں کے سامنے محتاط رہنا چاہئے۔ کیونکہ بچے کچھ بھی جانے بغیر ان کی نقل کریں گے۔ کچھ دن پہلے ، میں نے ذاتی طور پر ایک 5 یا 6 سال کی عمر کے دو بچوں کو پارک میں ، مشکوک انداز میں ایک دوسرے کے جسم کو چھوتے دیکھا، جب کہ ان کا کنبہ بھی وہاں موجود تھا۔ لیکن کوئی ان کی طرف توجہ نہیں کر رہا تھا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بچوں کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی انہوں نے یہ سب کچھ کہیں نہ کہیں تو ہوتے دیکھا ہوگا۔ اور قریں قیاس ہے کہ یہ سب گھر پہ ٹی وی پر یا کسی بالغ کو کرتے دیکھا یا سنا ہوگا۔

 لباس میں خاص خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ اپنی بیٹیوں کو ہمیشہ مکمل اور قدرے کھلے/ڈھیلے لباس پہنائیں۔میں ان خواتین پر بھی حیرت زدہ ہوں جو خود اس عمر میں بھی مکمل لباس پہنتی ہیں پردے کا بھی اہتمام کرتی ہیں لیکن اپنی بیٹیوں کو تنگ اور مختصر لباس زیب تن کروا دیتی ہیں۔

بزرگوں پر زیادہ بھروسہ نہ کریں ، خاص طور پر ادھیڑ عمر یا تنہا افراد پر تو بالکل بھروسہ نہ کریں۔ اکثر بڑی عمر کے لوگ اپنی عمر کا فائدہ اٹھاتے دیکھے گئے ہیں کیونکہ ان پر کسی کو شبہ نہیں ہوتا ۔

 اگر کوئی ٹیوٹر ٹیوشن دینے کے لئے آپ کے گھر آتا ہے تو ، اپنے بچے کو اس کے ساتھ اکیلا مت چھوڑیں۔ ٹیوشن کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں گاہے بگاہے آپکی نظر پڑتی رہے۔

اپنے بچے کو ہاسٹل بھیجنا بالکل اچھا خیال نہیں ہے۔ آپ کا معصوم بچہ آپ کے پیار اور دیکھ بھال کا مستحق ہے اسے خود سے دور نہ کریں۔

اگر آپ ساتھ نہیں رک رہے ہیں تو اپنے بچے کو کسی رشتہ دار یا دوست کے گھر زیادہ دیرنہ رہنے دیں۔ رات گزارنے کی اجازت تو بالکل بھی نہ دیں۔

 اگر آپ کا بچہ کسی جگہ یا کسی خاص شخص کے پاس جانے سے خوفزدہ ہے یا ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے تو ، اسے زبردستی نہ کریں ۔ اس کے بجائے ، بچے سے بات کریں ، اور اس خوف / ہچکچاہٹ کی اصل وجہ معلوم کرنے کی کوشش کریں۔

محترم والدین ، ​​آپ کا بچہ آپ کا اثاثہ ہے ، آپ کا مستقبل ہے اور اس کی حفاظت کی تمام تر ذمہ داری آپ پر ہے۔ برائے مہربانی اس کا خیال رکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *